سورہ حشر
مجادلہ | سورۂ حشر | ممتحنہ | |||||||||||||||||||||||
![]() | |||||||||||||||||||||||||
|
سورہ حَشْر قرآن کی 59ویں اور مدنی سورتوں میں سے ہے اور قرآن کے 28ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کا نام اس کی دوسری آیت سے لیا گیا ہے۔ اس سورت میں مدینہ سے یہودیوں کو نکالے جانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سورہ حشر کا آغاز خدا کی تسبیح جبکہ اس کا اختتام خدا کی تقدیس سے ہوتا ہے۔ جنگ بنی نضیر میں مسلمانوں کے ہاتھوں یہودیوں کی شکست، جنگ کے بغیر حال ہونے والے اموال اور غنائم کی تقسیم کا حکم، منافقین کی ملامت اور ان کی منافقت کا برملا ہونا نیز مہاجرین کی ایثار و فداکاری کی تعریف و تمجید اس سورت کے مضامین میں سے ہیں۔
احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ حشر کی تلاوت کرے گا تو دوسری تمام موجودات اس شخص پر صلوات بھیجتے ہیں اور اس کی مغفرت کیلئے دعا کرتے ہیں اور اگر تلاوت کے دن یا رات کو اس شخص کی موت واقع ہو تو اسے شہیدوں میں شمار کیا جائے گا۔
تعارف
- نام
اس سورت کو اس لئے حَشر کہا جاتا ہے کہ اس کی دوسری آیت میں "حشر" کا لفط آیا ہے جو بنی نضیر کے پیمان شکن یہودیوں کی آوارگی کی طرف اشارہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کو "سورہ بنی نضیر" کہا جاتا ہے۔[1]
- ترتیب اور محل نزول
سورہ حشر مدنی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 101ویں جبکہ موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 59ویں سورہ ہے اور قرآن کے 28ویں پارے میں واقع ہے۔[2]
- آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات
سورہ حشر 24 آیات 445 کلمات اور 1913 حروف پر مشتمل ہے۔[3] اس سورت کا شمار حجم کے اعتبار سے مُفَصلّات میں ہوتا ہے۔ اسی طرح سورہ حشر کا شمار مُسَبِّحات میں بھی ہوتا ہے جن کا آغاز تسبیح سے ہوتا ہے۔[4]
اس سورہ کو ممتحنات میں سے بھی شمار کیا گیا ہے[5] جس کی علت سورہ ممتحنہ کے ساتھ مضامین میں یکسانیت بتائی گئی ہے۔[6] [یادداشت 1]
مضامین
سورہ حشر کا آغاز خدا کی تسبیح یعنی "سَبَّحَ للہ" سے ہوتا ہے۔ اس سورت کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے که اس کی آخری تین آیات میں خدا کی صفات اور اسمائے حُسنا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کی علاوہ اس سورت درج ذیل موضوعات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے: جنگ بنی نضیر میں مسلمانوں کے ہاتھوں یہودیوں کی شکست، جنگ کے بغیر حال ہونے والے اموال اور غنائم کی تقسیم کا حکم، منافقین کی ملامت اور ان کی منافقت کا برملا ہونا نیز مہاجرین کی ایثار و فداکاری کی تعریف و تمجید اس سورت کے مضامین میں سے ہیں۔ جس طرح اس سورت کا آغاز خدا کی تسبیح سے ہوتا ہے اسی طرح اس کا اختتام بھی خدا کی تقدیس سے ہوتا ہے۔[7]
اللہ کی مخالفت کا انجام، ناکامی اور ذلت | |||||||||||||||||||||||||||||||
چوتھا گفتار؛ آیہ ۱۸-۲۴ زندگی میں ہمیشہ اللہ کے فرامین پر توجہ کی ضرورت | تیسرا گفتار؛ آیہ ۱۱-۱۷ منافقوں پر اعتماد کرنے کی وجہ سے یہودیوں کی ناکامی | دوسرا گفتار؛ آیہ ۶-۱۰ جنگی غنائم کی تقسیم میں مسلمانوں کا اللہ کی اطاعت | پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۵ خدا اور رسول کی مخالفت سے یہودیوں کی ذلت | ||||||||||||||||||||||||||||
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۸-۲۱ اللہ کے فرمان کے مقابلے میں مومنوں کی ذمہ داریاں | پہلا مطلب؛ آیہ ۱۱-۱۲ یہودیوں سے منافقوں کے جھوٹے وعدے | پہلا مطلب؛ آیہ ۶ جنگ کے بغیر ملنے والی غنیمت کا حکم | پہلا مطلب؛ آیہ ۱ تمام موجودات کی تسبیح، اللہ کی عزت کی علامت | ||||||||||||||||||||||||||||
دوسرا مطلب؛ آیہ ۲۲-۲۴ کائنات کے فرمانروا خدا کی اوصاف | دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۳-۱۴ یہودیوں اور منافقوں کو مسلمان سے خوف | دوسرا مطلب؛ آیہ ۷ جنگی غنیمت تقسیم کرنے کا طریقہ | دوسرا مطلب؛ آیہ ۲ یہودی نظامی قلعے تسخیر ہونا، اللہ کی قدرت کی نشانی | ||||||||||||||||||||||||||||
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۵-۱۷ غیر خدا پر اعتماد کرنے والے یہودیوں اور منافقوں کا انجام | تیسرا مطلب؛ آیہ ۸-۱۰ جنگی غنائم کی تقسیم بندی میں ترجیحات | تیسرا مطلب؛ آیہ ۳-۵ اللہ اور پیغمبر کی مخالفت پر یہودیوں کی ابدی ذلت | |||||||||||||||||||||||||||||
تاریخی واقعات
- جنگ بنی نضیر میں مسلمانوں کے ہاتھوں یہودیوں کی شکست اور ان کا ملک بدر ہونا (آیت 2)۔
- منافقین کا یہودیوں کو ساتھ دینے کا جھوٹا وعدہ (آیات 11-12)۔
شأن نزول: مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی سازش
جب پیغمبر اکرمؐ نے مدینہ ہجرت فرمائی تو وہاں پر پہلے سے موجود یہودیوں جن میں بنی نضیر، بنی قُریظہ اور بنی قَینُقاع شامل تھے، کے ساتھ صلح کا معاہدہ فرمایا لیکن انہوں نے بعد میں مختلف سازشوں کے ذریعے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی، من جملہ یہ کہ:
- پیغمبر اسلامؐ کو قتل کرنے کیلئے یہودیں کے سردار کعب بن اشرف کا ابوسفیان کے ساتھ اتحاد۔ یہ خبر جنگ احد کے بعد وحی کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ تک پہنچی۔
- قبیلہ بنی نضیر کے ایک یہودی عمرو بن جحاش کی پیغمبر اکرمؐ کو قتل کرنے کی سازش۔
- پیغمبر اکرمؐ کی شان میں توہین آمیز اشعار۔
ان تمام سازشوں کے بعد مسلمانوں کے ایک لشکر نے یهودیوں کے مضبوط قلعہ کو محاصرے میں لے لیا اور کئی دن کے محاصرے کے بعد قلعہ کے اطراف میں موجود کجھوروں کو آگ لگانے اور انہیں ختم کرنے کے ذریعے یہودیوں کو تسلیم ہونے پر مجبور کیا یوں جنگ کے بغیر مسلمانوں کو کامیابی ملی۔ مسلمانوں کی کامیابی کے بعد پیغمبر اسلامؐ نے یہودیوں کو مدینہ چھوڑنے پر مجبور کیا اور وہ گھر بار چھوڑ کر مختصر سازو سامان کے ساتھ مدینہ سے چلے گئے۔ ان میں سے بعض "اذرعات" ، شام جبکہ بعض "خیبر" اور بعض "حیرہ" کی طرف چلے گئے۔[9]
فضیلت اور خواص
پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے: "جو شخص سورہ حشر کی تلاوت کرے گا اس پر بہشت، جہنم، عرش الہی، کرسی، سات آسمان اور سات زمین، ہوا، پرندے، درخت، پہاڑ، چاند، سورج اور فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں اور اس کی مغفرت کیلئے دعا کرتے ہیں اور یہ شخص اگر اسی دن اس دنیا سے فوت ہوجائے جس دن اس نے اس سورت کی تلاوت کی ہے، تو اسے شہیدوں میں شمار کیا جائے گا"۔[10] امام صادقؑ سے بھی نقل ہوئی ہے: "جو شخص عصر کے وقت سورہ الرحمن اور سورہ حشر کی تلاوت کرے، خداوند متعال ایک فرشتے کو مأمور کرے گا جو صبح تک اس کی حفاظت کرے گا"۔[11]
متن اور ترجمہ
سورہ حشر
|
ترجمہ
|
---|
پچھلی سورت: سورہ مجادلہ | سورہ حشر | اگلی سورت:سورہ ممتحنہ |
1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آلعمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس |
حوالہ جات
- ↑ دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۴ـ۱۲۵۵۔
- ↑ معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۸۔
- ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۳۷۱ش، ج۱۹، ص ۹۴۔
- ↑ دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۵-۱۲۵۴۔
- ↑ رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶۔
- ↑ فرہنگنامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲۔
- ↑ دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۵-۱۲۵۴۔
- ↑ خامہگر، محمد، ساختار سورہہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
- ↑ مکارم شیرازی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۱۳۲-۱۳۳۔
- ↑ شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۱۷۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۰۶ق، ج۹، ص۳۸۴۔
نوٹ
- ↑ قرآن کی 16 سورتوں کو ممتحات کہا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ یہ نام ان سورتوں کو "سیوطی" نے دیا۔ رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶ اور وہ سورتیں یہ ہیں: فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ و تحریم (رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰۔)
مآخذ
- قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
- ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجِنان و روح الجَنان فی تفسیر القرآن، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۷۱ش۔
- رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲ش۔
- بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، مؤسسہ البعثہ، قسم الدراسات الاسلامیہ، قم، ۱۳۸۹ش۔
- دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، محمدرضا انصاری محلاتی، قم، نسیم کوثر، ۱۳۸۲ش۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفۃ، چاپ اول، ۱۴۰۶ق۔
- فرہنگنامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔
- معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بیجا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔
- مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ، دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۳۸۲ش۔